لوٹس پروجیکٹ کا مقصد معاشرے میں روشن خیالی اور تنقیدی سوچ کے فروغ کے لیے سائنسی اندازِ فکر کا مواد مستند انداز میں مہیا کرنا اور ہم خیال قارئین کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے۔ یہ کوئی تحریک یا گروپ نہیں، بلکہ ایک متبادل فکری زاویہ ہے۔
"یاسر جواد کی آپ بیتی"کتاب کہانی" ان لگے بندھے اصولوں کے مطابق نہیں ہے جس میں دعوے تو بڑے بڑے کیے جاتے ہیں مگر اصل حقائق یا تو چھپا لیے جاتے ہیں یا انہیں گول کر دیا جاتا ہے۔ یاسر جواد نے پبلشرز کے رویوں کے بارے میں آگاہ کرتے..."
مجاہد حسین
"مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ نوے کی دہائی کے شروع میں جب مجھے یقین ہوگیا کہ جمعیت طلبہ اسلام سے یونی ورسٹی کے دنوں میں کشیدہ تعلقات کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ کسی نجی کالج میں بھی اردو ادب پڑھانے کی نوکری نہین مل سکتی تو میں سیدھا روزنامہ خبریں جا پہنچا۔ضیا شاہد نے میری تحریر کو دیکھتے ہوئے یک سطری حکم جاری کیا کہ..."
امجد قمر
"یاسر جواد کی آپ بیتی "کتاب کہانی" کا مطالعہ مکمل کیا۔ یاسر سے میرا تعارف 2013 میں ہوا تھا جب ہمارے ادارے کو کچھ کتابچوں کا اردو میں ترجمہ درکار تھا۔ اس کے بعد کبھی کبھار ترجمے کے حوالے سے..."
محمد ساغر
"یاسر جواد کی آپ بیتی"کتاب کہانی" ان لگے بندھے اصولوں کے مطابق نہیں ہے جس میں دعوے تو بڑے بڑے کیے جاتے ہیں مگر اصل حقائق یا تو چھپا لیے جاتے ہیں یا انہیں گول کر دیا جاتا ہے۔ یاسر جواد نے پبلشرز کے رویوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں کہ کس طریقے سے وہ مصنف یا مترجم کا استحصال کرتے ہیں، کہیں ان کے نام لیے ہیں اور کہیں اشارہ کر جاتے ہیں کہ قاری خود اپنی محنت سے ان تک رسائی حاصل کرے۔ یاسر جواد نے جہاں اپنے بچپن کی زندگی کو جس انداز سے بیان کیا ہے ۔ وہ عام آدمی کے بچپن سے ملتا جلتا ہے اور جو کھیل اس نے گلیوں میں کھیلے ہیں وہ عام دیہاتوں میں زیادہ تر لوگوں نے کھیلے ہیں۔ خاص طور پر جب تراجم کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے تراجم پر بہت زیادہ محنت کی ۔ اس کے علاوہ اپنی محبت کی داستان میں بیان کی اور اپنے رشتے داروں کے رویوں کو بھی خوب صورتی سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے ملنے والوں کے خاکے بھی اپنے کتاب میں پیش کیے وہیں نظریات بھی ان کے سامنے آتے رہے ۔ سچ بات کو بیان کرنے میں ٹال مٹول سے کام نہیں لیا۔ یاسر جواد تحریکوں میں شامل ہوئے اور ان کی آپسی تضادات کو بھی بیان کیا ۔ یہ کتاب عام لوگوں کو پڑھنی چاہیئے جو اپنے بچپن کو تازہ کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جنہوں نے اپنے پہلے سے اصول و ضوابط طے کر رکھے ہوں۔ جو لوگ کچھ نیا سیکھنا چاہتے ہیں تو ان کےلئے اس میں بہت کچھ ہے ۔ آخر میں کچھ تصورات کے بارے میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔
’’میرے لیے زندگی کا مفہوم سوائے اس کے کچھ نہیں کہ آپ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی کہانیاں سمجھنے اور بیان کرنے کے قابل ہو سکیں۔‘‘ "
مجاہد حسین
"مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ نوے کی دہائی کے شروع میں جب مجھے یقین ہوگیا کہ جمعیت طلبہ اسلام سے یونی ورسٹی کے دنوں میں کشیدہ تعلقات کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ کسی نجی کالج میں بھی اردو ادب پڑھانے کی نوکری نہین مل سکتی تو میں سیدھا روزنامہ خبریں جا پہنچا۔ضیا شاہد نے میری تحریر کو دیکھتے ہوئے یک سطری حکم جاری کیا کہ ایڈیٹوریل میں بابا نذیر حق کی خدمت میں پیش ہوجاو۔وہاں ہمارے آج کے بے بدل تجزیہ کار حسن نثار بھی پائے جاتے تھے اور یوں میری ناکام ترین صحافتی زندگی کا اگلا سفر شروع ہوگیا،اس سے پہلے میں ماہنامہ اردو ڈائجسٹ سے نکالا جاچکا تھا وجہ یہ تھی کہ میں نے اپنے پیسٹر اور پروف ریڈر صابر شاکر کو کہیں بے تقلفانہ گفتگو کے دوران یہ کہہ دیا تھا کہ میں ایک سیکولر شخص ہوں اور اردو ڈائجسٹ میں شاید طویل عرصے تک نہیں چل پاوں گا۔روزنامہ خبریں کے نیوزروم میں ایک نمایاں طور پر دوسروں سے مختلف اور غیرمتوقع طور پر منہ پھٹ سب ایڈیٹر سے دوستی ہوگئی تو یقین ہوگیا کہ روزنامہ خبریں میں بھی ملازمت کے دن تھوڑے ہیں۔خیر روزنامہ خبریں کی ملازمت منہ پھٹ یاسر جواد کی وجہ سے ختم ہونے سے پہلے تنخواہ نہ ملنے کے باعث خود ہی ختم ہوگئی لیکن یاسر جواد کے ساتھ تعلق چلتا رہا۔ایک مرتبہ پھر ہم طاہر مجید کے اخبار میں یکجا ہوئے اور اب کی بار میں نے یاسر جواد کے ۲۵۰ روپے اینٹھ لیے اور آج تک واپس نہیں کیے۔یاسر تراجم کو پیارا ہوگیا اور میں دربہ در خاک چھانتا صحافتی ملازمتیں اور بے روزگاری کے طویل دورانیے نبھاتا کبھی لاہور کبھی لندن کبھی نیویارک اور پھر لاہور پھرتا جھک مارتا رہا اور پتہ اس وقت چلا جب کہا جانے لگا کہ تم تیزی کے ساتھ بوڑھے ہورہے ہو۔زیادہ تکلیف اس وقت ہوئی جب یاسر جواد کو پہلے سے کہیں زیادہ جوان دیکھا۔اس سے بھی زیادہ تکلیف اس وقت ہوئی جب اس کو حسین لڑکیوں اور جازب نظر خواتین میں مقبول دیکھا،آخری تکلیف تو تقریباً جان لیوا تھی جب اس کی خودنوشت کتاب کہانی دیکھی اور اس کی کاٹ دار نثر کے ساتھ ساتھ بلا کی یادداشت نے لاہور میں بسر ہوئی زندگی کے تمام پہلووں کو سامنے لا کھڑا کیا۔وہی بے رحم اور مہلک بے باک پن،مذاق ہی مذاق میں ہلاک کردینے پر تیار،ٹوٹ کر محبت کرنے والا الہڑ پن،بلا کا جملے باز،جو اس کو نہیں جانتے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی حاسد قسم کا شخص ہے،اور سب سے بڑھ کر ہنر مند تخیلق کار یاسر جواد اپنی خود نوشت میں لاتعداد کہانیاں،سماجی الجھنیں،نفسیاتی مغالطے،شخصی اوصاف اور لاہور کے ادب اور ادبی اداروں کی چونکادینے والی کہانیاں بیان کرتا ہوا ایک ایسا لااُبالی نوجوان نظر آتا ہے جو ۳۰ برس پہلے کھلے گریبان،گول شیشوں والی گاندھی سٹائل عینک،قمیض سے باہر نکلا ہوا طلائی لاکٹ اور کسی ہوئی جینز کے ساتھ دن بھر کی خبریں ترجمہ کرتا اور ساتھی صحافیوں کا بااوٓاز بلند مذاق اُڑایا کرتا تھا۔ہاں یہ وہی یاسر جواد ہے۔یاسر جواد کی کتاب لاہور کی ۳۰ برس کی تاریخ ہے جس میں وہ تمام کردار پوری قوت کے ساتھ موجود ہیں جو لاہور کے صحافتی و ادبی حلقوں کی پہچان تھے۔یاسر نے کس کے بارے میں کیا لکھا ہے غلط لکھا ہے یا ٹھیک لکھا ہے،اس کا جواب یاسر دے سکتا ہے میں ایک چشم دید گواہ اور ہم عصر ہونے کے ناطے اس کے لکھے سے لطف لے سکتا ہوں،اپنے ماضی کو زندہ و جاوید دیکھ سکتا ہوں اور اس کی شاندار نثر کا بھرپور لطف اٹھا سکتا ہوں۔ "
امجد قمر
"یاسر جواد کی آپ بیتی "کتاب کہانی" کا مطالعہ مکمل کیا۔ یاسر سے میرا تعارف 2013 میں ہوا تھا جب ہمارے ادارے کو کچھ کتابچوں کا اردو میں ترجمہ درکار تھا۔ اس کے بعد کبھی کبھار ترجمے کے حوالے سے ان سے رابطہ رہتا۔ کچھ سالوں سے ہمارا پیشہ ورانہ تعلق تو نہیں رہا، لیکن جب بھی اردو کے کسی لفظ کے معنی میں الجھن ہو، میں ہمیشہ ان سے واٹس ایپ پر رابطہ کرتا ہوں، اور وہ مہربانی کرتے ہوئے تصحیح فرما دیتے ہیں۔ البتہ فیس بک کے ذریعے رابطہ مستقل قائم ہے۔
۔میں یاسر کو محض مترجم نہیں مانتا، وہ مترجم سے بڑھ کر اس صلاحیت کے حامل ہیں کہ لفظ کی اصل روح اور مصنف کی سوچ کو سمجھ سکیں۔ آج کل بے شمار ڈیجیٹل ایپس دستیاب ہیں جو ہر زبان میں ترجمہ کرسکتی ہیں، لیکن ان میں وہ صلاحیت نہیں کہ وہ لفظ کے حقیقی مفہوم کا ترجمہ کرسکیں۔ یاسر کی خاصیت یہی ہے کہ وہ لفظی ترجمے سے آگے بڑھ کر اس کی روح کا ترجمہ کرتے ہیں۔"کتاب کہانی" پڑھنے سے پہلے میں سمجھتا تھا کہ اس قسم کا کام کافی محنت طلب ہوتا ہے، لیکن کتاب کے مطالعے کے بعد یہ ادراک ہوا کہ "کافی" کا لفظ مناسب نہیں ہے۔ کیونکہ ترجمے کے لیے آپ کو تحقیق کی ایک وسیع دنیا سے گزرنا پڑتا ہے۔ بہت سے لوگوں نے کتابیں تو ترجمہ کی ہیں، مگر ان کا کام محض الفاظ کے ترجمے تک محدود رہا۔ جب انہوں نے یہ کام شروع کیا ، اس وقت کتنے جتن کرنے پڑتے تھے۔ یہ کتاب پڑھ کر معلوم ہوا
یاسر صحافی ہیں،لکھاری ہیں، دانشور ہیں ، فلسفے و تحقیق کی دنیا کے مسافر ہیں۔ انہوں نے 140 کے قریب دنیا کی بہترین کتابوں کا اردو میں ترجمہ کر رکھا ہے۔ جس میں سائینس، فلسفہ ، مذاہبِ اور تاریخ پر مشتمل مشہور ترین لکھاریوں کی کتابیں شامل ہیں۔
"کتاب کہانی" کی خاص بات یہ ہے کہ یاسر نے کہیں بھی مروت کو قریب نہیں آنے دیا، اور جو واقعات ان پر گزرے، انہیں بلا جھجھک قاری کے سامنے رکھ دیا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ ہر ملاقات یا واقعے سے انہوں نے کیا سیکھا، لیکن فیصلہ قاری پر چھوڑ دیا۔ یہاں تک کہ اپنے متعلق واقعات کو بھی اسی سچائی کے تحت بیان کیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود احتسابی کے بھی قائل ہیں
"کتاب کہانی" ایک جانب کڑوے سچ، معاشرتی ناہمواریوں، سماجی ہتھکنڈوں، سمجھوتوں اور منافقت کو بے نقاب کرتی ہے، اور دوسری جانب صحافت، سیاست، انقلاب، نظریات اور ان کے فرد کی زندگی پر اثرات کو محیط ہے۔ یہ کتاب لاہور کے صحافتی و ادبی سفر کی داستان بھی سناتی ہے اور اس سے جڑے حسین و مکروہ چہروں سے بھی پردہ اٹھاتی ہے۔کتاب میں کئی جملے دل کو چھو گئے، لیکن چند خاص جملے یہ ہیں:
"آپ جب روایت سے الگ ہو کر آگے نکل جائیں، تو یونہی اکیلے ہونا پڑتا ہے۔ جو کہ ہرگز بری بات نہیں، لیکن جرات آزمائی ضرور ہے۔"
"جبراً زنجیریں اتروانا اور جبراً زنجیروں میں جکڑنا ایک جیسی چیز نہیں۔ روایت کی تمام خباثتوں کو جوں کا توں قبول کرنا اور روایت سے انحراف کرنا ایک ہی بات نہیں۔"
"کتاب کہانی" سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کتاب لکھنے یا ترجمہ کرنے والا ہمیشہ اپنے حق سے محروم رہتا ہے، کیونکہ پبلشرز کا مافیا اتنا مضبوط ہے کہ عدالت بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ پبلشرز کے نزدیک لکھاری محض ایک گاہک ہے، جس سے سودا طے کر کے کتاب کے تمام حقوق ضبط کر لیے جاتے ہیں، جبکہ وہ خود کماتا رہتا ہے اور لکھاری اپنے اخراجات پورے نہیں کر پاتا
۔یاسر کا کام اتنا اہم ہے کہ انہیں کسی قومی ایوارڈ کی نامزدگی کی ضرورت نہیں۔ ان کا کام ہی ان کی سفارش ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایسی شناخت کے لیے نہ تو کسی کی خوش آمد کریں گے، نہ کسی سیاست دان یا بیوروکریٹ کے دروازے پر جائیں گے اور نہ ہی کوئی تعریفی کالم لکھیں گے۔
ارباب اختیار کو چاہیے کہ بے شمار جھوٹے ایوارڈز کے درمیان ایک "سچا" ایوارڈ بھی عطا کریں۔ "